5 اشعار

وہ جو اک شکل مرے چار طرف بکھری تھی

Woh jo ik shakl mere chaar taraf bikhri thi

وہ جو اک شکل مرے چار طرف بکھری تھیمیں نے جب غور سے دیکھا تو مری اپنی تھی

پھر اسیروں پہ کسی خواب نے جادو ڈالارات کچھ حلقۂ زنجیر میں خاموشی تھی

یوں تو آداب محبت میں سبھی جائز تھاپھر بھی چپ رہنے میں اک شان دلآویزی تھی

رات بھر جاگنے والوں نے پس شمع زردصبح اک خواب کی صورت کی طرح دیکھی تھی

شورش شعر میں خاموش سی کیوں ہے زہراؔاچھا خاصا تو کبھی وہ بھی کہا کرتی تھی

— زہرا نگاہ