5 اشعار

یہ کیا ستم ہے کوئی رنگ و بو نہ پہچانے

Ye kya sitam hai koi rang-o-boo na pehchaane

یہ کیا ستم ہے کوئی رنگ و بو نہ پہچانے

«یہ کیا ستم ہے کوئی رنگ و بو نہ پہچانے» زہرا نگاہ کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 40 سیکنڈ ہے۔

یہ کیا ستم ہے کوئی رنگ و بو نہ پہچانےبہار میں بھی رہے بند تیرے مے خانے

فنا کے زمزمے رنج و محن کے افسانےیہی ملے ہیں نئی زندگی کو نذرانے

تری نگاہ کی جنبش میں اب بھی شامل ہیںمری حیات کے کچھ مختصر سے افسانے

جو سن سکو تو یہ سب داستاں تمہاری ہےہزار بار جتایا مگر نہیں مانے

جو کر گئے ہیں جدا ایک ایک سے ہم کودیار غرب سے آئے تھے چند بیگانے

— زہرا نگاہ