5 اشعار

وہ جو اک شکل مرے چار طرف بکھری تھی

Wo jo ik shakl mere chaar taraf bikhri thi

وہ جو اک شکل مرے چار طرف بکھری تھی

«وہ جو اک شکل مرے چار طرف بکھری تھی» زہرا نگاہ کا کلام ہے، جسے نجیب قدیر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کہاں کے عشق و محبت کدھر کے ہجر ووصال زہرانگاہ» میں 23 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 44 سیکنڈ ہے۔

وہ جو اک شکل مرے چار طرف بکھری تھیمیں نے جب غور سے دیکھا تو مری اپنی تھی

پھر اسیروں پہ کسی خواب نے جادو ڈالارات کچھ حلقۂ زنجیر میں خاموشی تھی

یوں تو آداب محبت میں سبھی جائز تھاپھر بھی چپ رہنے میں اک شان دلآویزی تھی

رات بھر جاگنے والوں نے پس شمع زردصبح اک خواب کی صورت کی طرح دیکھی تھی

شورش شعر میں خاموش سی کیوں ہے زہراؔاچھا خاصا تو کبھی وہ بھی کہا کرتی تھی

— زہرا نگاہ

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں