6 اشعار

یہ اداسی یہ پھیلتے سائے

Yeh udasi yeh phailte saaye

یہ اداسی یہ پھیلتے سائے

«یہ اداسی یہ پھیلتے سائے» زہرا نگاہ کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 52 سیکنڈ ہے۔

یہ اداسی یہ پھیلتے سائےہم تجھے یاد کر کے پچھتائے

مل گیا تھا سکوں نگاہوں کوکی تمنا تو اشک بھر آئے

گل ہی اکتا گئے ہیں گلشن سےباغباں سے کہو نہ گھبرائے

ہم جو پہنچے تو رہ گزر ہی نہ تھیتم جو آئے تو منزلیں لائے

جو زمانے کا ساتھ دے نہ سکےوہ ترے آستاں سے لوٹ آئے

بس وہی تھے متاع دیدہ و دلجتنے آنسو مژہ تلک آئے

— زہرا نگاہ