6 اشعار

یوں کہنے کو پیرایۂ اظہار بہت ہے

Yun kehne ko pairaaya-e-izhaar bohot hai

یوں کہنے کو پیرایۂ اظہار بہت ہےیہ دل دل ناداں سہی خوددار بہت ہے

دیوانوں کو اب وسعت صحرا نہیں درکاروحشت کے لیے سایۂ دیوار بہت ہے

بجتا ہے گلی کوچوں میں نقارۂ الزامملزم کہ خموشی کا وفادار بہت ہے

جب حسن تکلم پہ کڑا وقت پڑے تواور کچھ بھی نہ باقی ہو تو تکرار بہت ہے

خود آئینہ گر آئینہ چھوڑے تو نظر آئےدہکا ہوا ہر شعلۂ رخسار بہت ہے

منصف کے لیے اذن سماعت پہ ہیں پہرےاور عدل کی زنجیر میں جھنکار بہت ہے

— زہرا نگاہ