نظم 7 اشعار

ابو الہول

Abul-haul

جہان ریگ کے خواب گراں سے آج تو جاگہزاروں قافلے آتے رہے گزرتے رہے

کوئی جگا نہ سکا تجھ کو تجھ سے کون کہےوہ زیست موت ہے جس میں کوئی لگن ہو نہ لاگ

تڑپ اٹھے ترے ہونٹوں پہ کاش اب کوئی راگجو تیرے دیدۂ سنگیں سے درد بن کے بہے

یہ تیری تیرہ شبی بجلیوں کے ناز سہےیوں ہی سلگتی رہے تیرے دل میں زیست کی آگ

مگر نہیں، تو اگر میرا راز داں ہوتاترے لبوں پہ دہک اٹھتی کوئی پیار کی بات

تو آج دہر کے سینے پہ تو کہاں ہوتاترے سکوں کو کبھی چھو سکا نہ وقت کا ہات

خود اپنی آگ ہی میں جل بجھی ہے میری حیاتوگرنہ تیری طرح میں بھی جاوداں ہوتا

— ضیاء جالندھری