نظم 12 اشعار

دوری

Duri

مری نظر میں ہے اب تک وہ شام وہ محفلوہ اک ہجوم طرب وہ نشاط نغمہ و نور

شریر لڑکیاں رنگین تتلیاں بے تابلبوں پہ گل کدۂ گفتگو کھلائے ہوئے

وہ قہقہے وہ مسرت کی نقرئی جھنکاراور اس ہجوم میں تم جیسے گلستاں میں بہار

میں اپنے گوشۂ کم تاب میں ہجوم سے دوراداس نظروں میں مدھم دیے جلائے ہوئے

تم آئیں ہنستی ہوئی آئیں برق کے مانندمرے قریب سے کتنی قریب سے گزریں

بھڑکتا شعلہ تھا جیسے وہ گوشۂ کم تابمرے قریب ہو اور کس قدر قریب ہو آج

نظر نظر میں لیے قہقہوں کی تابانیفضا میں چاند کی کرنیں نکھر کے بکھری ہیں

مگر کبھی کبھی جس طرح کوئی سایہ ساتمہاری پلکوں سے کچھ کہہ کے لوٹ جاتا ہے

دبی دبی وہی سرگوشیاں وہی آوازکہ اس جمال و مسرت کی تہ میں پنہاں ہے

وہ روح تیرہ جسے اک کرن نصیب نہیںمرے قریب ہو اور کتنی دور ہو مجھ سے

خوشی کا ساتھ تو ہے آنسوؤں کا ساتھ نہیںہنسو اور اتنا ہنسو تم برس پڑیں آنکھیں

پھر ان سلگتے ہوئے آنسوؤں میں بہہ جائےوہ درد اور وہ دوری جو قہقہوں میں ہے

— ضیاء جالندھری