نظم 8 اشعار

بلند پیڑوں کے سبز پتوں میں سطح دریا کی سلوٹوں پر

Buland pedon ke sabz patton mein sath-e-dariya ki silwaton par

بلند پیڑوں کے سبز پتوں میں سطح دریا کی سلوٹوں پرہوا کے جھونکوں سے دھوپ کے جھلملاتے تارے تھرک رہے ہیں

خنک ہوا جیسے کانچ کی تیز کرچیں رگ رگ کو چیرتی ہیںخنک ہوا جیسے تلخ مے کائنات کے جسم میں رواں ہے

یہ کشتیاں برف سے ڈھکی نیلی چوٹیوں پر نظر جمائےہوا سے ٹکراتی سرد پانی کو کاٹتی بڑھتی جا رہی ہیں

یہ قہقہے شوخ شوخ باتیں یہ ہنستے چہروں کا ایک جھرمٹنظر نظر میں گداز کرنوں کی آنچ محسوس ہو رہی ہے

کسی کنارے کے تیرہ سایوں میں بھول آئے ہیں بار غم کووہ برف کی چوٹیاں نگاہوں کے دائروں میں بھر رہی ہیں

کہیں بہت دور چھوڑ آئے ہیں آج بے حس عمارتوں کوجو اپنے سینے میں تیرگی کا دھواں دبائے سسک رہی تھیں

سلگتی چنگاریاں جہاں بڑھتی راکھ میں دب کے سو گئی تھیںجہاں فسردہ غبار میں زندگی تو کیا موت بھی نہیں تھی

کہیں انہی چوٹیوں سے اب وہ عمارتیں پھر ابھر نہ آئیں

— ضیاء جالندھری