نظم 12 اشعار

خود فریب

Khud fareb

نہیں نہیں مجھے نور سحر قبول نہیںکوئی مجھے وہ مری تیرگی عطا کر دے

کہ میں نے جس کے سہارے بنے تھے خواب پہ خوابہزار رنگ مرے مو قلم میں تھے جن سے

بنا بنا کے بت آرزو کی تصویریںسیاہ پردۂ شب پر بکھیر دیں میں نے

رواں تھے میرے رگ و پے میں ان گنت نغمےوہ دکھ کے گیت جو لب آشنا نہیں اب تک

میں تیرہ بخت تھا اس تیرگی کے دامن میںسکوں نصیب تھا ناکام آرزوؤں کو

میں اپنے خوابوں سے تاریک رات سے خوش تھانہ جانے کیوں پلٹ آئی ہو سیل نور کے ساتھ

میں جی رہا تھا تمہارے بغیر بھی لیکنتمہاری یاد میں میں نے وہ بت بنائے ہیں

جو آج تم سے بھی بڑھ کر عزیز ہیں مجھ کووہ بت مرے ہیں مجھے چھوڑ کر نہ جائیں گے

میں اپنے آپ سے بے حس بتوں سے خوش تھا مگرتم آ گئی ہو مری تیرگی پہ ہنسنے کو

تمہارے ساتھ کئی غم بھی لوٹ آئے ہیںنہیں نہیں مجھے اب سوز غم کی تاب نہیں

نہیں سحر نہیں تعبیر میرے خوابوں کینہیں مجھے نہ جگاؤ کہ میرے خوابوں میں

تمہارا عکس مجھے اب بھی پیار کرتا ہے

— ضیاء جالندھری