9 اشعار

ہجر کی سختیوں سے بچنا ہے

Hijr ki sakhtiyon se bachna hai

ہجر کی سختیوں سے بچنا ہے

«ہجر کی سختیوں سے بچنا ہے» زبیر قلزم کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 54 سیکنڈ ہے۔

ہجر کی سختیوں سے بچنا ہےآ مرے پاس ایک رستہ ہے

بنا دیتی ہے آگہی پاگلسنا ہے تو بھی چہرے پڑھتا ہے

میں نے دریا میں جو بہا دیں تھیںتو انہیں نیکیوں کا بدلہ ہے

اس کو پا کر کیوں بچوں سے خوش ہوکیا وہ قسمت پڑی سے نکلا ہے

حیف لگتا نہیں ہے باتوں سےآپ کا پہلا لفظ اقرا ہے

موت کی چاہیے پناہ مجھےمجھ کو اس زندگی سے خطرہ ہے

اک خوشی کے لیے چلا اتناسانس لیتا ہوں سانس دکھتا ہے

حال خستہ مکاں بتا رہا ہےاس مکاں کا مکین اچھا ہے

جھوٹ مکاری اک طرف قلزؔمدیکھ ظالم حسین کتنا ہے

— زبیر قلزم