9 اشعار

مت کہیں پھر سے کہ تمہارے ہیں

Mat kahin phir se ke tumhare hain

مت کہیں پھر سے کہ تمہارے ہیںبڑی مشکل سے دن سنوارے ہیں

آپ جائیں وضاحتیں مت دیںہجر ایسے بہت گزارے ہیں

زخم وہ دکھا نہیں سکتااس نے لہجے کے تیر مارے ہیں

حسن جیسی بلا نہیں ٹلتیبارہا صدقے بھی اتارے ہیں

جو گریں اس کے گیلے بالوں سےیار بوندیں نہیں ستارے ہیں

آئینہ بھی بتا نہیں سکتاآپ کتنے حسین پیارے ہیں

باغ سے خار لائیں جو چن کروہ ہیں کم ظرف بخت مارے ہیں

ایسے ہنس کر یہ روز کا ملنایہ بچھڑے کے سب اشارے ہیں

خود کشی کر تو لوں مگر قلزممیرے غم میرے ہی سہارے ہیں

— زبیر قلزم

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں