6 اشعار

ڈوب کر خود میں کبھی یوں بے کراں ہو جاؤں گا

Doob kar khud mein kabhi yoon be-karaan ho jaunga

ڈوب کر خود میں کبھی یوں بے کراں ہو جاؤں گا

«ڈوب کر خود میں کبھی یوں بے کراں ہو جاؤں گا» آزاد گلاٹی کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «آج ان آنکھوں میں دیکھا تو ملا دشت خلا آزاد گلاٹی» میں 19 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 49 سیکنڈ ہے۔

ڈوب کر خود میں کبھی یوں بے کراں ہو جاؤں گاایک دن میں بھی زمیں پر آسماں ہو جاؤں گا

ریزہ ریزہ ڈھلتا جاتا ہوں میں حرف و صوت میںرفتہ رفتہ اک نہ اک دن میں بیاں ہو جاؤں گا

تم بلاؤ گے تو آئے گی صدائے بازگشتوہ بھی دن آئے گا جب سونا مکاں ہو جاؤں گا

تم ہٹا لو اپنے احسانات کی پرچھائیاںمجھ کو جینا ہے تو اپنا سائباں ہو جاؤں گا

یہ سلگتا جسم ڈھل جائے گا جب برفاب میںمیں بدلتے موسموں کی داستاں ہو جاؤں گا

منتظر صدیوں سے ہوں آزادؔ اس لمحے کا جبروز روشن کی طرح خود پر عیاں ہو جاؤں گا

— آزاد گلاٹی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں