14 اشعار

انگوٹھی

Angoothi

انگوٹھی

«انگوٹھی» اختر شیرانی کا کلام ہے، جسے امل خان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «بہار آ کے چلی جاتی ہے ویرانی نہیں جاتی اختر شیرانی» میں 11 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 43 سیکنڈ ہے۔

چھپاؤں کیوں نہ دل میں خاتم گوہر نگار اس کییہی لے دے کے میرے پاس ہے اک یادگار اس کی

یہ تنہائی میں میرے لب تک آ کر مسکراتی ہےاور اپنی مالکہ کی طرح دل کو گدگداتی ہے

قلم کے ساتھ میرے ہاتھ میں ہر وقت رہتی ہےاور اس کے دست رنگیں کے فسانے مجھ سے کہتی ہے

طلائی انگلیوں کا جب مجھے قصہ سناتی ہےتصور میں ستاروں کے سے پیکر کھینچ لاتی ہے

مری سلمیٰؔ کو اس نے شاد اور ناشاد دیکھا ہےگہے مسرور گاہے مائل فریاد دیکھا ہے

اسے معلوم ہیں اچھی طرح بیتابیاں اس کینہیں پوشیدہ اس کی آنکھ سے بے خوابیاں اس کی

شب تنہائی میں اس نے اسے بے دار پایا ہےاور اکثر دیدۂ سرشار کو خوں بار پایا ہے

اسے معلوم ہے وہ کس طرح مغموم رہتی تھیکسی کے غم میں لطف زیست سے محروم رہتی تھی

مرا خط پڑھ کے وہ کس کس ناز سے مسرور ہوتی تھیپھر اپنی بے بسی پر کس طرح رنجور ہوتی تھی

یہ شاہد ہے کہ اس کی شام غم کیوں کر گزرتی تھییہ شاہد ہے کہ وہ رو رو کے کیوں کر صبح کرتی تھی

وہ جب دل تھام لیتی تھی ہجوم غم سے گھبرا کرتو یہ کرتی تھی اس کی غم گساری دل کے پاس آ کر

اسے معلوم ہے جو درد تھا اس پاک سینے میںبسی ہیں اس کے دل کی دھڑکنیں اس کے نگینے میں

پہنچتی ہیں شعاعیں اس کی جس دم چشم حیراں تکتصور مجھ کو لے اڑتا ہے سلمیٰؔ کے شبستاں تک

جہاں سلمیٰؔ کے اور میرے سوا ہوتا نہیں کوئیانگوٹھی کھوئی جاتی ہے مگر کھوتا نہیں کوئی

— اختر شیرانی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں