10 اشعار

آنسو

Aansoo

آنسو

«آنسو» اختر شیرانی کا کلام ہے، جسے امل خان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «بہار آ کے چلی جاتی ہے ویرانی نہیں جاتی اختر شیرانی» میں 11 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

میرے پہلو میں جو بہہ نکلے تمہارے آنسوبن گئے شام محبت کے ستارے آنسو

دیکھ سکتا ہے بھلا کون یہ پارے آنسومیری آنکھوں میں نہ آ جائیں تمہارے آنسو

شمع کا عکس جھلکتا ہے جو ہر آنسو میںبن گئے بھیگی ہوئی رات کے تارے آنسو

مینہ کی بوندوں کی طرح ہو گئے سستے کیوں آجموتیوں سے کہیں مہنگے تھے تمہارے آنسو

صاف اقرار محبت ہو زباں سے کیوں کرآنکھ میں آ گئے یوں شرم کے مارے آنسو

ہجر ابھی دور ہے میں پاس ہوں اے جان وفاکیوں ہوئے جاتے ہیں بے چین تمہارے آنسو

صبح دم دیکھ نہ لے کوئی یہ بھیگا آنچلمیری چغلی کہیں کھا دیں نہ تمہارے آنسو

اپنے دامان و گریباں کو میں کیوں پیش کروںہیں مرے عشق کا انعام تمہارے آنسو

دم رخصت ہے قریب اے غم فرقت خوش ہوکرنے والے ہیں جدائی کے اشارے آنسو

صدقے اس جان محبت کے میں اخترؔ جس کےرات بھر بہتے رہے شوق کے مارے آنسو

— اختر شیرانی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں