6 اشعار

تمہاری شرط محبت کبھی وفا نہ ہوئی

Tumhari shart-e-mohabbat kabhi wafa na hui

تمہاری شرط محبت کبھی وفا نہ ہوئییہ کیا ہوئی تمہیں کہہ دو اگر جفا نہ ہوئی

قدم قدم پہ قدم لڑکھڑائے جاتے تھےتمام عمر بھی طے منزل وفا نہ ہوئی

تمہیں کہو تمہیں ناآشنا کہیں نہ کہیںکہ آشنا سے ادا رسم آشنا نہ ہوئی

تری ادا کی قسم ہے تری ادا کے سواپسند اور کسی کی ہمیں ادا نہ ہوئی

ہمیں کو دیکھ کے خنجر نکالتے تھے آپہمارے بعد تو یہ رسم پھر ادا نہ ہوئی

خدا نے رکھ لیا ناز و نیاز کا پردہکہ روز حشر مری ان کی برملا نہ ہوئی

— مبارک عظیم آبادی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں