در امکاں سے گزر کر سر منظر آ کر
کلام: شاہین عباس
در امکاں سے گزر کر سر منظر آ کرہم عجب لہر میں ہیں اپنے نئے گھر آ کر
جسے جانا ہی نہیں اپنے کناروں سے جدااسے دیکھا بھی نہیں موج سے باہر آ کر
دعا ہم زاد ہو سکتی دیا ہم راز ہو سکتا شاہین عباس
مہمان شاعر: اسعد بدایونی
در امکاں سے گزر کر سر منظر آ کرہم عجب لہر میں ہیں اپنے نئے گھر آ کر
جسے جانا ہی نہیں اپنے کناروں سے جدااسے دیکھا بھی نہیں موج سے باہر آ کر