دعا ہم زاد ہو سکتی دیا ہم راز ہو سکتا
کلام: شاہین عباس
دعا ہم زاد ہو سکتی دیا ہم راز ہو سکتامیں ویرانی پہ اتنا تو اثر انداز ہو سکتا
یہ میری خامشی اس انتہا کی خامشی ہوتیکسی بھی شام کا میں نقطۂ آغاز ہو سکتا
دعا ہم زاد ہو سکتی دیا ہم راز ہو سکتا شاہین عباس
مہمان شاعر: اسعد بدایونی
دعا ہم زاد ہو سکتی دیا ہم راز ہو سکتامیں ویرانی پہ اتنا تو اثر انداز ہو سکتا
یہ میری خامشی اس انتہا کی خامشی ہوتیکسی بھی شام کا میں نقطۂ آغاز ہو سکتا
صبح وفا سے ہجر کا لمحہ جدا کرومنزل سے گرد، گرد سے رستہ جدا کرو
اک نقش ہو نہ پائے ادھر سے ادھر مراجیسا تمہیں ملا تھا میں ویسا جدا کرو
جھگڑے اپنے بھی ہوں جب چاک گریبانوں کےکام ہوتے ہوئے رہ جاتے ہیں ویرانوں کے
جیسے آنکھوں کے یہ دو تل ہوں جو تبدیل نہ ہوںغول آتے ہوئے جاتے ہوئے انسانوں کے