7 اشعار

در امکاں سے گزر کر سر منظر آ کر

Dar imkaan se guzar kar sar-e-manzar aa kar

در امکاں سے گزر کر سر منظر آ کر

«در امکاں سے گزر کر سر منظر آ کر» شاہین عباس کا کلام ہے، جسے نور مائیر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «دعا ہم زاد ہو سکتی دیا ہم راز ہو سکتا شاہین عباس» میں 23 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 3 سیکنڈ ہے۔

در امکاں سے گزر کر سر منظر آ کرہم عجب لہر میں ہیں اپنے نئے گھر آ کر

جسے جانا ہی نہیں اپنے کناروں سے جدااسے دیکھا بھی نہیں موج سے باہر آ کر

آتش غم پہ نظر کی ہے کچھ ایسے کہ یہ آنچبات کر سکتی ہے اب مرے برابر آ کر

تو نے کس حرف کے آہنگ میں ڈھالا تھا مجھےسانس بھی ٹوٹ رہا ہے سر محضر آ کر

اسے دیکھا تھا خط خواب کے اس پار کبھییہ ستارہ جو گرا ہے مرے اندر آ کر

اک صدا کوہ ندا سے کسی اپنے کی صدارونے لگ جاتی ہے اس دشت میں اکثر آ کر

شاخ تا شاخ عجب عالم وحشت ہے ابھیطائر جاں کبھی ٹھہرا تھا مرے گھر آ کر

— شاہین عباس

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں