میرے اندر ہی کہیں آیا تھا طوفان مرا
کلام: شاہین عباس
میرے اندر ہی کہیں آیا تھا طوفان مرادیکھتے دیکھتے دل ہو گیا ویران مرا
مجھے کھو کر تری آنکھیں نہیں پہلے جیسیتیرے نقصان سے بڑھ کر ہے یہ نقصان مرا
دعا ہم زاد ہو سکتی دیا ہم راز ہو سکتا شاہین عباس
مہمان شاعر: اسعد بدایونی
میرے اندر ہی کہیں آیا تھا طوفان مرادیکھتے دیکھتے دل ہو گیا ویران مرا
مجھے کھو کر تری آنکھیں نہیں پہلے جیسیتیرے نقصان سے بڑھ کر ہے یہ نقصان مرا