دشت نادیدہ سے پھر ربط بڑھانے لگے ہم
کلام: شاہین عباس
دشت نادیدہ سے پھر ربط بڑھانے لگے ہمدل ہی دل میں سہی کچھ خاک اڑانے لگے ہم
پہر دو پہر کو وہ عشق تھا اک عمر کا عشقآئنہ دیکھا تو کچھ اتنے پرانے لگے ہم
دعا ہم زاد ہو سکتی دیا ہم راز ہو سکتا شاہین عباس
مہمان شاعر: اسعد بدایونی
دشت نادیدہ سے پھر ربط بڑھانے لگے ہمدل ہی دل میں سہی کچھ خاک اڑانے لگے ہم
پہر دو پہر کو وہ عشق تھا اک عمر کا عشقآئنہ دیکھا تو کچھ اتنے پرانے لگے ہم