ایسا نہیں کہ اس نے بنایا نہیں مجھے
کلام: شاہین عباس
ایسا نہیں کہ اس نے بنایا نہیں مجھےجو زخم اس کو آیا ہے آیا نہیں مجھے
دیوار کو گرا کے اٹھایا بھی میں نے تھادیوار نے گرا کے اٹھایا نہیں مجھے
دعا ہم زاد ہو سکتی دیا ہم راز ہو سکتا شاہین عباس
مہمان شاعر: اسعد بدایونی
ایسا نہیں کہ اس نے بنایا نہیں مجھےجو زخم اس کو آیا ہے آیا نہیں مجھے
دیوار کو گرا کے اٹھایا بھی میں نے تھادیوار نے گرا کے اٹھایا نہیں مجھے