قہر ہے موت ہے قضا ہے عشق
کلام: مومن خان مومن
قہر ہے موت ہے قضا ہے عشقسچ تو یوں ہے بری بلا ہے عشق
اثر غم ذرا بتا دیناوہ بہت پوچھتے ہیں کیا ہے عشق
جب دیا رنج بتوں نے تو خدا یاد آیا مومن خان مومن
مہمان شاعر: مومن خان مومن
قہر ہے موت ہے قضا ہے عشقسچ تو یوں ہے بری بلا ہے عشق
اثر غم ذرا بتا دیناوہ بہت پوچھتے ہیں کیا ہے عشق
جلتا ہوں ہجر شاہد و یاد شراب میںشوق ثواب نے مجھے ڈالا عذاب میں
کہتے ہیں تم کو ہوش نہیں اضطراب میںسارے گلے تمام ہوئے اک جواب میں