کرتا ہے قتل عام وہ اغیار کے لیے
کلام: مومن خان مومن
کرتا ہے قتل عام وہ اغیار کے لیےدس بیس روز مرتے ہیں دو چار کے لیے
دیکھا عذاب رنج دل زار کے لیےعاشق ہوئے ہیں وہ مرے آزار کے لیے
جب دیا رنج بتوں نے تو خدا یاد آیا مومن خان مومن
مہمان شاعر: مومن خان مومن
کرتا ہے قتل عام وہ اغیار کے لیےدس بیس روز مرتے ہیں دو چار کے لیے
دیکھا عذاب رنج دل زار کے لیےعاشق ہوئے ہیں وہ مرے آزار کے لیے