کس نے کوئی سچ لکھا ہے یہ فقط الزام ہے
کلام: اسعد بدایونی
کس نے کوئی سچ لکھا ہے یہ فقط الزام ہےشاعری محرومیوں کا خوب صورت نام ہے
بے غرض ملنے کی ساری منطقیں جھوٹی ہیں یارتو جو آیا ہے تو اب بتلا بھی دے کیا کام ہے
کچھ یہ غم خون بہاراں نہ ہوا تھا سو ہوا اسعد بدایونی
مہمان شاعر: اسعد بدایونی
کس نے کوئی سچ لکھا ہے یہ فقط الزام ہےشاعری محرومیوں کا خوب صورت نام ہے
بے غرض ملنے کی ساری منطقیں جھوٹی ہیں یارتو جو آیا ہے تو اب بتلا بھی دے کیا کام ہے