راستہ کوئی سفر کوئی مسافت کوئی
کلام: اسعد بدایونی
راستہ کوئی سفر کوئی مسافت کوئیپھر خرابی کی عطا ہو مجھے صورت کوئی
سارے دریا ہیں یہاں موج میں اپنی اپنیمرے صحرا کو نہیں ان سے شکایت کوئی
کچھ یہ غم خون بہاراں نہ ہوا تھا سو ہوا اسعد بدایونی
مہمان شاعر: اسعد بدایونی
راستہ کوئی سفر کوئی مسافت کوئیپھر خرابی کی عطا ہو مجھے صورت کوئی
سارے دریا ہیں یہاں موج میں اپنی اپنیمرے صحرا کو نہیں ان سے شکایت کوئی