پوشیدہ کیوں ہے طور پہ جلوہ دکھا کے دیکھ
کلام: اسعد بدایونی
پوشیدہ کیوں ہے طور پہ جلوہ دکھا کے دیکھاے دوست میری تاب نظر آزما کے دیکھ
پھولوں کی تازگی ہی نہیں دیکھنے کی چیزکانٹوں کی سمت بھی تو نگاہیں اٹھا کے دیکھ
کچھ یہ غم خون بہاراں نہ ہوا تھا سو ہوا اسعد بدایونی
مہمان شاعر: اسعد بدایونی
پوشیدہ کیوں ہے طور پہ جلوہ دکھا کے دیکھاے دوست میری تاب نظر آزما کے دیکھ
پھولوں کی تازگی ہی نہیں دیکھنے کی چیزکانٹوں کی سمت بھی تو نگاہیں اٹھا کے دیکھ