ہم اہل خوف
کلام: اسعد بدایونی
یہی تھکن کہ جو ان بستیوں پہ چھائی ہےاتر نہ جائے پرندوں کے شہپروں میں بھی
یہ ٹوٹے پھوٹے مکانات اونگھتے چھپرچراغ شام کی دھندلی سی روشنی کے امیں
کچھ یہ غم خون بہاراں نہ ہوا تھا سو ہوا اسعد بدایونی
مہمان شاعر: اسعد بدایونی
یہی تھکن کہ جو ان بستیوں پہ چھائی ہےاتر نہ جائے پرندوں کے شہپروں میں بھی
یہ ٹوٹے پھوٹے مکانات اونگھتے چھپرچراغ شام کی دھندلی سی روشنی کے امیں