کسی پہ کوئی بھروسہ کرے تو کیسے کرے (ردیف .. ا)
کلام: باقر مہدی
کسی پہ کوئی بھروسہ کرے تو کیسے کرےکہ آنسوؤں کے سوا اور کوئی کیا دے گا
بہت ہوا تو تبسم کے چند پھولوں کونگاہ شوخ کے ہاتھوں سے بے وفا دے گا
مجھے دشمن سے اپنے عشق سا ہے باقر مہدی
مہمان شاعر: باقر مہدی
کسی پہ کوئی بھروسہ کرے تو کیسے کرےکہ آنسوؤں کے سوا اور کوئی کیا دے گا
بہت ہوا تو تبسم کے چند پھولوں کونگاہ شوخ کے ہاتھوں سے بے وفا دے گا