دشمن جاں کوئی بنا ہی نہیں
کلام: باقر مہدی
دشمن جاں کوئی بنا ہی نہیںاتنے ہم لائق جفا ہی نہیں
آزما لو کہ دل کو چین آئےیہ نہ کہنا کہیں وفا ہی نہیں
مجھے دشمن سے اپنے عشق سا ہے باقر مہدی
مہمان شاعر: باقر مہدی
دشمن جاں کوئی بنا ہی نہیںاتنے ہم لائق جفا ہی نہیں
آزما لو کہ دل کو چین آئےیہ نہ کہنا کہیں وفا ہی نہیں
عجیب دل میں مرے آج اضطراب سا ہے!کھلی ہے آنکھ سمندر بھی ایک خواب سا ہے!
ٹھہر ٹھہر کے بجاتا ہے کوئی سازینہمیں کیا کروں مرے سینے میں اک رباب سا ہے!
اوروں پہ اتفاق سے سبقت ملی مجھےبھولے سے سرکشی کی روایت ملی مجھے
غیروں کی دوستی سے کسے ہمدمی ملیسب سے بچھڑ کے اپنی رفاقت ملی مجھے