ذرے کا راز مہر کو سمجھانا چاہئے
کلام: باقر مہدی
ذرے کا راز مہر کو سمجھانا چاہئےچھوٹی سی کوئی بات ہو لڑ جانا چاہئے
خوابوں کی ایک ناؤ سمندر میں ڈال کےطوفاں کی موج موج سے ٹکرانا چاہئے
مجھے دشمن سے اپنے عشق سا ہے باقر مہدی
مہمان شاعر: باقر مہدی
ذرے کا راز مہر کو سمجھانا چاہئےچھوٹی سی کوئی بات ہو لڑ جانا چاہئے
خوابوں کی ایک ناؤ سمندر میں ڈال کےطوفاں کی موج موج سے ٹکرانا چاہئے
کیا خبر تھی کہ کبھی بے سر و ساماں ہوں گےفصل گل آتے ہی اس طرح سے ویراں ہوں گے
در بدر پھرتے رہے خاک اڑاتے گزریوحشت دل ترے کیا اور بھی احساں ہوں گے