میں بھاگ کے جاؤں گا کہاں اپنے وطن سے
کلام: باقر مہدی
میں بھاگ کے جاؤں گا کہاں اپنے وطن سےجیتا ہوں مصائب کی بقا میرے لیے ہے
سچ بولنے والے کو ڈراتے ہو ستم سےرک جاؤ ٹھہر جاؤ جزا میرے لیے ہے
مجھے دشمن سے اپنے عشق سا ہے باقر مہدی
مہمان شاعر: باقر مہدی
میں بھاگ کے جاؤں گا کہاں اپنے وطن سےجیتا ہوں مصائب کی بقا میرے لیے ہے
سچ بولنے والے کو ڈراتے ہو ستم سےرک جاؤ ٹھہر جاؤ جزا میرے لیے ہے