5 اشعار

کسی پہ کوئی بھروسہ کرے تو کیسے کرے (ردیف .. ا)

Kisi pe koi bharosa kare to kaise kare (radeef .. a)

کسی پہ کوئی بھروسہ کرے تو کیسے کرے (ردیف .. ا)

«کسی پہ کوئی بھروسہ کرے تو کیسے کرے (ردیف .. ا)» باقر مہدی کا کلام ہے، جسے مبشرجاوید نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «مجھے دشمن سے اپنے عشق سا ہے باقر مہدی» میں 24 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 35 سیکنڈ ہے۔

کسی پہ کوئی بھروسہ کرے تو کیسے کرےکہ آنسوؤں کے سوا اور کوئی کیا دے گا

بہت ہوا تو تبسم کے چند پھولوں کونگاہ شوخ کے ہاتھوں سے بے وفا دے گا

چلے تو جاتے ہو روٹھے ہوئے مگر سن لوہر ایک موڑ پہ کوئی تمہیں صدا دے گا

عجیب منزل حیرت میں ہے جہان خرابکہ جیسے ہم سے دوانوں کو بھی سزا دے گا

ہمارے شعر میں پنہاں ہے روشنی غم کیذرا سنو تو سر شام یہ ضیا دے گا

— باقر مہدی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں