لرز لرز کے نہ ٹوٹیں تو وہ ستارے کیا
کلام: باقر مہدی
لرز لرز کے نہ ٹوٹیں تو وہ ستارے کیاجنہیں نہ ہوش ہو غم کا وہ غم کے مارے کیا
مہکتے خون سے صحرا جلے ہوئے گلشننظر فریب ہیں دنیا کے یہ نظارے کیا
مجھے دشمن سے اپنے عشق سا ہے باقر مہدی
مہمان شاعر: باقر مہدی
لرز لرز کے نہ ٹوٹیں تو وہ ستارے کیاجنہیں نہ ہوش ہو غم کا وہ غم کے مارے کیا
مہکتے خون سے صحرا جلے ہوئے گلشننظر فریب ہیں دنیا کے یہ نظارے کیا