بدل کے رکھ دیں گے یہ تصور کہ آدمی کا وقار کیا ہے
کلام: باقر مہدی
بدل کے رکھ دیں گے یہ تصور کہ آدمی کا وقار کیا ہےخلا میں وہ چاند ناچتا ہے زماں مکاں کا حصار کیا ہے
بہک گئے تھے سنبھل گئے ہیں ستم کی حد سے نکل گئے ہیںہم اہل دل یہ سمجھ گئے ہیں کشاکش روزگار کیا ہے