8 اشعار

بدل کے رکھ دیں گے یہ تصور کہ آدمی کا وقار کیا ہے

Badal ke rakh denge ye tasawwur ki aadmi ka waqar kya hai

بدل کے رکھ دیں گے یہ تصور کہ آدمی کا وقار کیا ہے

«بدل کے رکھ دیں گے یہ تصور کہ آدمی کا وقار کیا ہے» باقر مہدی کا کلام ہے، جسے جاسمین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «مجھے دشمن سے اپنے عشق سا ہے باقر مہدی» میں 24 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 20 سیکنڈ ہے۔

بدل کے رکھ دیں گے یہ تصور کہ آدمی کا وقار کیا ہےخلا میں وہ چاند ناچتا ہے زماں مکاں کا حصار کیا ہے

بہک گئے تھے سنبھل گئے ہیں ستم کی حد سے نکل گئے ہیںہم اہل دل یہ سمجھ گئے ہیں کشاکش روزگار کیا ہے

ابھی نہ پوچھو کہ لالہ زاروں سے اٹھ رہا ہے دھواں وہ کیسامگر یہ دیکھو کہ پھول بننے کا آرزو مند خار کیا ہے

وہی بنے دشمن تمنا جنہیں سکھایا تھا ہم نے جینااگر یہ پوچھیں تو کس سے پوچھیں کہ دوستی کا شعار کیا ہے

کبھی ہے شبنم کبھی شرارا فلک سے ٹوٹا تو ایک تاراغم محبت کے رازدارو یہ گوہر آبدار کیا ہے

بہار کی تم نئی کلی ہو ابھی ابھی جھوم کر کھلی ہومگر کبھی ہم سے یوں ہی پوچھو کہ حسرتوں کا مزار کیا ہے

بہ ایں تباہی دکھائے ہم نے وہ معجزے عاشقی کے تم کوبہ ایں عداوت کبھی نہ کہنا کہ آپ سا خاکسار کیا ہے

بنے کوئی علم و فن کا مالک کہ میں ہوں راہ وفا کا سالکنہیں ہے شہرت کی فکر باقرؔ غزل کا اک رازدار کیا ہے

— باقر مہدی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں