5 اشعار

میں بھاگ کے جاؤں گا کہاں اپنے وطن سے

Main bhaag ke jaaun ga kahan apne watan se

میں بھاگ کے جاؤں گا کہاں اپنے وطن سے

«میں بھاگ کے جاؤں گا کہاں اپنے وطن سے» باقر مہدی کا کلام ہے، جسے ملک افراسیاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «مجھے دشمن سے اپنے عشق سا ہے باقر مہدی» میں 24 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 36 سیکنڈ ہے۔

میں بھاگ کے جاؤں گا کہاں اپنے وطن سےجیتا ہوں مصائب کی بقا میرے لیے ہے

سچ بولنے والے کو ڈراتے ہو ستم سےرک جاؤ ٹھہر جاؤ جزا میرے لیے ہے

افسوس کٹی عمر کتب خانوں میں لیکنیہ وسعت صحرا یہ فضا میرے لیے ہے

میں راہ یگانہ پہ ہمیشہ سے چلا ہوںرسوائی تباہی تو سدا میرے لیے ہے

مجرم ہوں کہ فاشزم کے سائے میں ہوں جیتاباقرؔ کو بچا لو یہ سزا میرے لیے ہے

— باقر مہدی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں