سوکھے ہونٹ، سلگتی آنکھیں، سرسوں جیسا رنگ
کلام: شبنم شکیل
سوکھے ہونٹ، سلگتی آنکھیں، سرسوں جیسا رنگبرسوں بعد وہ دیکھ کے مجھ کو رہ جائے گا دنگ
ماضی کا وہ لمحہ مجھ کو آج بھی خون رلائےاکھڑی اکھڑی باتیں اس کی، غیروں جیسے ڈھنگ
نہ کوئی حرف ملامت نہ کوئی کلمۂ خیر شبنم شکیل
مہمان شاعر: شبنم شکیل
سوکھے ہونٹ، سلگتی آنکھیں، سرسوں جیسا رنگبرسوں بعد وہ دیکھ کے مجھ کو رہ جائے گا دنگ
ماضی کا وہ لمحہ مجھ کو آج بھی خون رلائےاکھڑی اکھڑی باتیں اس کی، غیروں جیسے ڈھنگ