مجبور ہیں پر اتنے تو مجبور بھی نہیں
کلام: شبنم شکیل
مجبور ہیں پر اتنے تو مجبور بھی نہیںجب ان کو بھول جائیں وہ دن دور بھی نہیں
کچھ تو لکھی ہیں اپنے مقدر میں گردشیںکچھ پیار میں نباہ کا دستور بھی نہیں
نہ کوئی حرف ملامت نہ کوئی کلمۂ خیر شبنم شکیل
مہمان شاعر: شبنم شکیل
مجبور ہیں پر اتنے تو مجبور بھی نہیںجب ان کو بھول جائیں وہ دن دور بھی نہیں
کچھ تو لکھی ہیں اپنے مقدر میں گردشیںکچھ پیار میں نباہ کا دستور بھی نہیں
آئین وفا اتنا بھی سادہ نہیں ہوتاہر بار مسرت کا اعادہ نہیں ہوتا
یہ کیسی صداقت ہے کہ پردوں میں چھپی ہےاخلاص کا تو کوئی لبادہ نہیں ہوتا
سفر کی آخری منزل کے راہبر ہم ہیںہمارے ساتھ چلو گرد رہ گزر ہم ہیں
لکھی ہیں چہروں پہ جو سرخیاں پڑھو ان کوخبر ہو عام کہ دنیا سے با خبر ہم ہیں