تم سے رخصت طلب ہے مل جاؤ
کلام: شبنم شکیل
تم سے رخصت طلب ہے مل جاؤکوئی اب جاں بلب ہے مل جاؤ
لوٹ کر اب نہ آ سکیں شایدیہ مسافت عجب ہے مل جاؤ
نہ کوئی حرف ملامت نہ کوئی کلمۂ خیر شبنم شکیل
مہمان شاعر: شبنم شکیل
تم سے رخصت طلب ہے مل جاؤکوئی اب جاں بلب ہے مل جاؤ
لوٹ کر اب نہ آ سکیں شایدیہ مسافت عجب ہے مل جاؤ
یہ سلسلے بھی رفاقت کے کچھ عجیب سے ہیںکہ دور دور کے منظر بہت قریب سے ہیں
قبائے زر ہے انا کی اگرچہ زیب بدنمگر یہ اہل ہنر دل کے سب غریب سے ہیں