بے وجہ تحفظ کی ضرورت بھی نہیں ہے
کلام: شبنم شکیل
بے وجہ تحفظ کی ضرورت بھی نہیں ہےایسی مرے اندر کوئی عورت بھی نہیں ہے
ہاں ان کو بھلا ڈالیں گے اک عمر پڑی ہےاس کام میں ایسی کوئی عجلت بھی نہیں ہے
نہ کوئی حرف ملامت نہ کوئی کلمۂ خیر شبنم شکیل
مہمان شاعر: شبنم شکیل
بے وجہ تحفظ کی ضرورت بھی نہیں ہےایسی مرے اندر کوئی عورت بھی نہیں ہے
ہاں ان کو بھلا ڈالیں گے اک عمر پڑی ہےاس کام میں ایسی کوئی عجلت بھی نہیں ہے
چلتے رہے تو کون سا اپنا کمال تھایہ وہ سفر تھا جس میں ٹھہرنا محال تھا
اک دوسرے کا قرب ہوا خوف میں نصیباب شہر میں ہر اک کو ہر اک کا خیال تھا