7 اشعار

سوکھے ہونٹ، سلگتی آنکھیں، سرسوں جیسا رنگ

Sookhe honth, sulagti aankhen, sarson jaisa rang

سوکھے ہونٹ، سلگتی آنکھیں، سرسوں جیسا رنگ

«سوکھے ہونٹ، سلگتی آنکھیں، سرسوں جیسا رنگ» شبنم شکیل کا کلام ہے، جسے ثنا سوئٹ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «نہ کوئی حرف ملامت نہ کوئی کلمۂ خیر شبنم شکیل» میں 16 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 9 سیکنڈ ہے۔

سوکھے ہونٹ، سلگتی آنکھیں، سرسوں جیسا رنگبرسوں بعد وہ دیکھ کے مجھ کو رہ جائے گا دنگ​

ماضی کا وہ لمحہ مجھ کو آج بھی خون رلائےاکھڑی اکھڑی باتیں اس کی، غیروں جیسے ڈھنگ​

تارہ بن کے دور افق پر کانپے، لرزے، ڈولےکچی ڈور سے اڑنے والی دیکھو ایک پتنگ​

دل کو تو پہلے ہی درد کی دیمک چاٹ گئی تھیروح کو بھی اب کھاتا جائے تنہائی کا زنگ​

انہی کے صدقے یا رب میری مشکل کر آسانمیرے جیسے اور بھی ہیں جو دل کے ہاتھوں تنگ​

سب کچھ دے کر ہنس دی اور پھر کہنے لگی تقدیرکبھی نہ ہوگی پوری تیرے دل کی ایک امنگ​

شبنم کوئی جو تجھ سے ہارے، جیت پہ مان نہ کرناجیت وہ ہوگی جب جیتو گی اپنے آپ سے جنگ​

— شبنم شکیل

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں