نہ پوچھ دیکھ کے کتنا ملال ہوتا ہے
کلام: شبنم شکیل
نہ پوچھ دیکھ کے کتنا ملال ہوتا ہےجو خواب دیکھنے والوں کا حال ہوتا ہے
لبوں پہ مہر خموشی لگائی جاتی ہےاور اس کے بعد ہمیں سے سوال ہوتا ہے
نہ کوئی حرف ملامت نہ کوئی کلمۂ خیر شبنم شکیل
مہمان شاعر: شبنم شکیل
نہ پوچھ دیکھ کے کتنا ملال ہوتا ہےجو خواب دیکھنے والوں کا حال ہوتا ہے
لبوں پہ مہر خموشی لگائی جاتی ہےاور اس کے بعد ہمیں سے سوال ہوتا ہے
منظر سے کبھی دل کے وہ ہٹتا ہی نہیں ہےاک شہر جو بستے ہوئے دیکھا ہی نہیں ہے
کچھ منزلیں اب اپنا پتہ بھی نہیں دیتیںاور راستہ ایسا ہے کہ کٹتا ہی نہیں ہے