اندیشہ ہائے روز مکافات اور میں
کلام: شبنم شکیل
اندیشہ ہائے روز مکافات اور میںاس دل کے بے شمار سوالات اور میں
خلق خدا پہ خلق خدا کی یہ دار و گیرحیراں خدائے ارض و سماوات اور میں
نہ کوئی حرف ملامت نہ کوئی کلمۂ خیر شبنم شکیل
مہمان شاعر: شبنم شکیل
اندیشہ ہائے روز مکافات اور میںاس دل کے بے شمار سوالات اور میں
خلق خدا پہ خلق خدا کی یہ دار و گیرحیراں خدائے ارض و سماوات اور میں
ہم راہ مرے کوئی مسافر نہ چلا تھادھوکا مجھے خود اپنی ہی آہٹ سے ہوا تھا
مسدود ہوئی جس کی ہر اک راہ سراسراس صف میں مجھے لا کے کھڑا کس نے کیا تھا