غمِ دنیا نے ہمیں جب کبھی ناشاد کیا
کلام: خمار بارہ بنکوی
غمِ دنیا نے ہمیں جب کبھی ناشاد کیااے غمِ دوست تجھے ہم نے بہت یاد کیا
اشک بہہ بہہ کے مِرے خاک پہ جب گرنے لگےمیں نے تُجھ کو، تِرے دامن کو بہت یاد کیا
قسطوں میں خود کشی کا مزہ ہم سے پوچھیے (خمار بارہ بنکوی)
مہمان شاعر: خمار بارہ بنکوی
غمِ دنیا نے ہمیں جب کبھی ناشاد کیااے غمِ دوست تجھے ہم نے بہت یاد کیا
اشک بہہ بہہ کے مِرے خاک پہ جب گرنے لگےمیں نے تُجھ کو، تِرے دامن کو بہت یاد کیا