یہ مصرع نہیں ہے وظیفہ مرا ہے
کلام: خمار بارہ بنکوی
یہ مصرع نہیں ہے وظیفہ مرا ہےخدا ہے محبت محبت خدا ہے
کہوں کس طرح میں کہ وہ بے وفا ہےمجھے اس کی مجبوریوں کا پتا ہے
قسطوں میں خود کشی کا مزہ ہم سے پوچھیے (خمار بارہ بنکوی)
مہمان شاعر: خمار بارہ بنکوی
یہ مصرع نہیں ہے وظیفہ مرا ہےخدا ہے محبت محبت خدا ہے
کہوں کس طرح میں کہ وہ بے وفا ہےمجھے اس کی مجبوریوں کا پتا ہے
حسن جب مہرباں ہو تو کیا کیجیےعشق کے مغفرت کی دعا کیجیے
اس سلیقے سے ان سے گلہ کیجیےجب گلہ کیجیے ہنس دیا کیجیے