کبھی شعر و نغمہ بن کے کبھی آنسوؤں میں ڈھل کے
کلام: خمار بارہ بنکوی
کبھی شعر و نغمہ بن کے کبھی آنسوؤں میں ڈھل کےوہ مجھے ملے تو لیکن ملے صورتیں بدل کے
یہ وفا کی سخت راہیں یہ تمہارے پائے نازکنہ لو انتقام مجھ سے مرے ساتھ ساتھ چل کے
قسطوں میں خود کشی کا مزہ ہم سے پوچھیے (خمار بارہ بنکوی)
مہمان شاعر: خمار بارہ بنکوی
کبھی شعر و نغمہ بن کے کبھی آنسوؤں میں ڈھل کےوہ مجھے ملے تو لیکن ملے صورتیں بدل کے
یہ وفا کی سخت راہیں یہ تمہارے پائے نازکنہ لو انتقام مجھ سے مرے ساتھ ساتھ چل کے
ہوش زدہ نادان سے ڈربات سمجھ انسان سے ڈر
ترک محبت بھی ہے فریبٹھہرے ہوئے طوفان سے ڈر
مجھ کو یہ جان و دل قبول نغمے کو نغمہ ہی سمجھساز یہ بیتتی ہے کیا یہ بھی کبھی کبھی سمجھ
عشق ہے تشنگی کا نام توڑ دے گر ملے بھی جامشدت تشنگی نہ دیکھ لذت تشنگی سمجھ