6 اشعار

غمِ دنیا نے ہمیں جب کبھی ناشاد کیا

Gham-e-duniya ne hamein jab kabhi nashaad kiya

غمِ دنیا نے ہمیں جب کبھی ناشاد کیا

«غمِ دنیا نے ہمیں جب کبھی ناشاد کیا» خمار بارہ بنکوی کا کلام ہے، جسے یادرفتگان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «قسطوں میں خود کشی کا مزہ ہم سے پوچھیے (خمار بارہ بنکوی)» میں 2 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 48 سیکنڈ ہے۔

غمِ دنیا نے ہمیں جب کبھی ناشاد کیااے غمِ دوست تجھے ہم نے بہت یاد کیا

اشک بہہ بہہ کے مِرے خاک پہ جب گرنے لگےمیں نے تُجھ کو، تِرے دامن کو بہت یاد کیا

قید میں رکھّا ہمیں صیاد نے کہہ کہہ کے یہیابھی آزاد کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔، بس ابھی آزاد کیا

پھرگئیں نظروں میں آنسو بھری آنکھیں اُن کیجب کبھی غم نے مجھے مائلِ فریاد کیا

ہائے وہ دل مجھے اُس دل پہ ترس آتا ہےتو نے برباد کیا جس کو ، نہ آباد کیا

تجھ کو برباد تو ہونا تھا بہرحال خُمارناز کر ناز ، کہ اُس نے تُجھے برباد کیا

— خمار بارہ بنکوی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں