تو چاہئے نہ تیری وفا چاہئے مجھے
کلام: خمار بارہ بنکوی
تو چاہئے نہ تیری وفا چاہئے مجھےکچھ بھی نہ تیرے غم کے سوا چاہئے مجھے
مرنے سے پہلے شکل ہی اک بار دیکھ لوںاے موت زندگی کا پتا چاہئے مجھے
قسطوں میں خود کشی کا مزہ ہم سے پوچھیے (خمار بارہ بنکوی)
مہمان شاعر: خمار بارہ بنکوی
تو چاہئے نہ تیری وفا چاہئے مجھےکچھ بھی نہ تیرے غم کے سوا چاہئے مجھے
مرنے سے پہلے شکل ہی اک بار دیکھ لوںاے موت زندگی کا پتا چاہئے مجھے
کبھی جو میں نے مسرت کا اہتمام کیابڑے تپاک سے غم نے مجھے سلام کیا
ہزار ترک تعلق کا اہتمام کیامگر جہاں وہ ملے دل نے اپنا کام کیا