ایسا نہیں کہ ان سے محبت نہیں رہی
کلام: خمار بارہ بنکوی
ایسا نہیں کہ ان سے محبت نہیں رہیجذبات میں وہ پہلی سی شدت نہیں رہی
ضعف قویٰ نے آمد پیری کی دی نویدوہ دل نہیں رہا وہ طبیعت نہیں رہی
قسطوں میں خود کشی کا مزہ ہم سے پوچھیے (خمار بارہ بنکوی)
مہمان شاعر: خمار بارہ بنکوی
ایسا نہیں کہ ان سے محبت نہیں رہیجذبات میں وہ پہلی سی شدت نہیں رہی
ضعف قویٰ نے آمد پیری کی دی نویدوہ دل نہیں رہا وہ طبیعت نہیں رہی