جھنجھلائے ہیں لجائے ہیں پھر مسکرائے ہیں
کلام: خمار بارہ بنکوی
جھنجھلائے ہیں لجائے ہیں پھر مسکرائے ہیںکس اہتمام سے انہیں ہم یاد آئے ہیں
دیر و حرم کے حبس کدوں کے ستائے ہیںہم آج مے کدے کی ہوا کھانے آئے ہیں
قسطوں میں خود کشی کا مزہ ہم سے پوچھیے (خمار بارہ بنکوی)
مہمان شاعر: خمار بارہ بنکوی
جھنجھلائے ہیں لجائے ہیں پھر مسکرائے ہیںکس اہتمام سے انہیں ہم یاد آئے ہیں
دیر و حرم کے حبس کدوں کے ستائے ہیںہم آج مے کدے کی ہوا کھانے آئے ہیں
آنکھوں کے چراغوں میں اجالے نہ رہیں گےآ جاؤ کہ پھر دیکھنے والے نہ رہیں گے
جا شوق سے لیکن پلٹ آنے کے لیے جاہم دیر تلک خود کو سنبھالے نہ رہیں گے